ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اسمارٹ سٹی کے طرزپر بی ڈی اے ٹاؤن شپ کی تیاری

اسمارٹ سٹی کے طرزپر بی ڈی اے ٹاؤن شپ کی تیاری

Mon, 08 Jan 2018 15:49:07    S.O. News Service

بنگلورو7؍ جنوری(ایس او نیوز) پچھلے سال کے بجٹ میں ریاستی وزیر اعلیٰ سدارامیا کی جانب سے جو کونا داسنا پورا ٹاؤن شپ کا اعلان کیا گیا تھا اسے بی ڈی اے نے اسمارٹ سٹی کے طرز پر ترقی دینے کا فیصلہ ۔یہی پہلی بار ایک ٹاؤن شپ کی تعمیر کا منصوبہ تیار کرنے والی بی ڈی اے کی جانب سے متعینہ وقت کے اندر اس منصوبہ کی تکمیل کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کے لئے مختلف سطح پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔اسمارٹ سٹی میں روزگار کے مقام پر ہی رہائش کی بھی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، ایسے منصوبے مغربی ممالک میں بہت کامیاب ہوئے ہیں اسی طرز پر ریاست کے صدر مقام بنگلور میں ایک ٹاؤن شپ کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔اس طرح کے ٹاؤن شپ ملک کے دیگر مقامات پر بھی تعمیر کئے جار ہے ہیں، خانگی اداروں کی طرف سے کثیر مالیہ کا استعمال کرتے ہوئے تعمیر کئے جانے والے کئی ایک ٹاؤن شپس کی عوامی مانگ میں کافی اضافہ دیکھا جا رہا ہے لیکن سرکاری اداروں کی طرف سے مالیات کی کمی کے پیش نظر کہیں بھی اس طرح کے ٹاؤن شپ کی تعمیر میں ہاتھ نہیں لگایا گیا تھا۔ریاست میں بھی پہلے ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے اور یہ پہلی بار ہے کہ بی ڈی اے نے اس منصوبہ کے لئے کمر کس لی ہے۔ بنگلور مشرقی تعلقہ، بیدرا ہلی ہوبلی کے کونا داسنا پورا گاؤں میں166؍ایکڑ زمین پر یہ ٹاؤن شپ تعمیر کی جارہی ہے۔ودھان سودھا سے تقریباً چوبیس کلو میٹر کے فاصلہ پر موجود یہ مقام قومی شاہراہ نمبر چار کے قریب ہے۔آئی ٹی کاریڈور کا ایک حصہ وائٹ فیلڈ اور کیمپے گوڈا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی اس کے قریب ہی پڑتے ہیں جس کی وجہ سے اس ٹاؤن شپ کی تعمیر میں بی ڈی اے دلچسپی لے رہا ہے۔امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں ممبئی، بنگلور ،چنئی کی صنعتی شاہراہ کے راستے کھولنے والے ہوسکوٹہ کے راستہ پر رہائشی اور غیر رہائشی سرگرمیوں میں کافی اضافہ ہو سکتا ہے۔چونکہ یہ زمین بی ڈی اے ہی کی ملکیت میں ہے اس لئے یہاں زمین کا حصول یا اس کے لئے قیمت ادا کرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔اسی وجہ سے بی ڈی اے نے ریاستی حکومت کی ہدایات کے مطابق یہاں انوویٹیو ٹاؤن شپ کی تعمیر کے لئے پہل کی ہے۔ بی ڈی اے کے اس مجوزہ ٹاؤن شپ میں رہائشی اور غیر رہائشی سرگرمیوں کے علاوہ اقتصادی کارروائیوں کے لئے بھی مواقع فراہم کئے جائیں گے۔شاپنگ مال، اسپتال،اطلاعاتی مرکز(انفارمیشن سنٹر) اور سوپر مارکیٹ کے قیام کے لئے بھی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔سواریوں کے لئے ہائی ٹیک پارکنگ لاٹ، ماحولیاتی تحفظ کو مد نظر رکھتے ہوئے عمارتوں کی تعمیر کی جائے گی، پارک ، کھیل کا میدان،شمسی توانائی اور بارش کا پانی اکٹھا کرنے کی سہولیات بھی یہاں میسر ہونگی اور انہیں موثر انداز میں استعمال کیا جائے گا۔مکمل ٹاؤن شپ پر ٹکنالوجی کی چھاپ واضح کرنے کے لئے اسمارٹ سٹی کی تمام سہولیات کو یہاں استعمال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ٹاؤن شپ کی تعمیر کے سلسلہ میں بی ڈی اے کی جانب سے ابتدائی اقدامات پچھلے سال ستمبر ہی سے شروع ہو گئے ہیں،منصوبہ کے نفاذ کے لئے مختلف کمپنیوں سے تجاویز طلب کی گئی ۔تجاویز پیش کرنے والی کمپنیوں کو یہ تفصیلات فراہم کرنا ہوتا ہے کہ موجودہ زمین پر کس طرح کی سہولیات فراہم کی جانی چاہئے،اخراجات کا تخمینہ کیا ہوگا اور منصوبہ کی تکمیل کی مدت کیا ہوگی وغیرہ۔اسی کی بنیاد پر تکنیکی اور مالیاتی کارروائی رپورٹ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور اگر یہ محسوس کیا جائے کہ کسی کمپنی کی تجاویزمنصوبے کے نفاذ کے قابل ہیں تو اس کے بعد تعمیراتی کاموں کے لئے عمومی ٹنڈر طلب کئے جائیں گے، اس کے جواب میں ٹھیکہ داروں کی جانب سے متعینہ امور کے مطابق تخمینہ پیش کرنے کی صورت میں ضوابط کا لحاظ کرتے ہوئے ٹنڈر کو منظوری دی جائے گی اور اس کے بعد تعمیراتی کاموں کا آغاز ہوگا۔بی ڈی اے کا خیال ہے کہ اس منصوبے کو عام عوامی حصہ داری (پی پی پی) کی بنیاد پر مکمل کیا جائے۔ واضح رہے کہ بی ڈی اے نے بنگلور شہر میں اب تک69لے آؤٹ اور13,000؍ فلیٹ تعمیر کئے ہیں ان میں سے کئی فلیت کی تعمیرات مکمل ہو چکی ہیں اور بعض کے منصوبے زیر تکمیل ہیں۔یہ منصوبہ بے350؍کروڑ روپئے سے لے کر دو ہزار روپئے کے درمیانی تخمینہ کے رہے ہیں۔لیکن انوویٹیو ٹاؤن شپ اور اسمارٹ سٹی کی سہولیات کا منصوبہ بی ڈی اے نے پہلی مرتبہ تیار کیا ہے۔


Share: